چولستان میں پانی کی شدید قلت، خشک سالی کا خطرہ منڈلانے لگا
فورٹ عباس: صحرائے چولستان میں معمول سے کم بارشوں کے باعث قدرتی ٹوبے خشک ہونے لگے ہیں، جس کی وجہ سے مقامی آبادی اور مویشی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پانی کی مسلسل کمی نے چولستانی باشندوں میں خشک سالی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اگر بروقت بارشیں نہ ہوئیں یا متبادل ذرائع فراہم نہ کیے گئے تو صورتحال انتہائی سنگین ہو سکتی ہے۔
چولستان کی بیشتر آبادی کا انحصار ان قدرتی ٹوبوں پر ہوتا ہے، جہاں سے نہ صرف انسان بلکہ ان کے مویشی بھی پانی حاصل کرتے ہیں۔ پانی کی شدید قلت کی وجہ سے جانور کمزور ہو رہے ہیں، دودھ کی پیداوار میں کمی آ رہی ہے، اور کئی مقامات پر مویشی ہلاک ہونے کے خدشات ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو چولستان کے باسیوں کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑے گا، جو ان کے لیے ایک بڑا المیہ ہوگا۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ حکومت اور متعلقہ اداروں سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی اپیل کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر پانی کے متبادل ذرائع فراہم کیے جائیں، کنویں کھودے جائیں اور پانی کی ترسیل کے منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ چولستان میں زندگی کو بچایا جا سکے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق اگر چولستان میں بارشوں کی یہی کمی برقرار رہی تو یہ خطہ شدید خشک سالی کا شکار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات صرف چولستان ہی نہیں بلکہ قریبی علاقوں پر بھی پڑیں گے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو خوراک اور پانی کی قلت بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
چولستان کے باسیوں کی حکومت سے اپیل
چولستانی باشندے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، کیونکہ یہ معاملہ صرف جانوروں یا مقامی افراد کا نہیں بلکہ پورے علاقے کے ماحولیاتی توازن کا بھی ہے۔ اگر پانی کی کمی برقرار رہی تو چولستان ایک بنجر صحرا میں تبدیل ہو سکتا ہے، جہاں زندگی کا وجود مشکل ہو جائے گا۔