spot_img

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

پنجاب میں زرعی میکانائزیشن کے لیے بلا سود قرضے

لاہور (کسان نیوز): وزیر زراعت و لائیو اسٹاک پنجاب...

لہسن کی فصل کو بچائیں!

سیالکوٹ (کسان نیوز): پاکستان میں لہسن کی فصل کا...

کورین تاجروں کو زرعی شعبے میں سرمایہ کاری

لاہور: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے حبیب...

پاکستان میں کپاس کی پیداوار بحران کا شکار

پاکستان میں کپاس کی پیداوار کا بحران کئی سالوں...

اگیتی کپاس کی کاشت کے لیے ٹرپل جین ورائٹی کے انتخاب پر زور

صادق آباد: اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع صادق آباد، سعید...

کپاس کی پیداوار میں 34 فیصد کمی

وفاقی وزیر تحفظ خوراک رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ حکومت کپاس کے شعبے میں اصلاحات کے لیے کام کر رہی ہے، جس میں مقامی لنٹ (کتان کا ملائم کپڑا) پر 18 فیصد جی ایس ٹی پر نظرثانی بھی شامل ہے تاکہ مارکیٹ میں منصفانہ ماحول پیدا کیا جا سکے۔

کپاس کی پیداوار میں 34 فیصد کمی
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے مطابق مالی سال 25-2024 میں کپاس کی پیداوار میں مقرر کردہ ہدف سے 34 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

31 جنوری تک ملک میں کپاس کی 55 لاکھ گانٹھوں سے زائد پیداوار ہوئی، جو وفاقی کمیٹی برائے زراعت کے مقرر کردہ ایک کروڑ 12 لاکھ گانٹھوں کے ہدف کا تقریباً 50 فیصد ہے۔ اس کے برعکس، جننگ فیکٹریوں اور اسپننگ ملوں کے پاس کپاس اور سوتی دھاگے کا اسٹاک گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جبکہ مقامی کاٹن مارکیٹ میں ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے خریداری میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

درآمد شدہ کپاس اور مقامی پیداوار پر اثرات
رپورٹس کے مطابق ٹیکسٹائل انڈسٹری نے گزشتہ سال کے مقابلے میں مقامی جننگ یونٹس سے 35 فیصد کم کپاس خریدی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے کپاس اور سوتی دھاگے کی ٹیکس فری درآمد کی اجازت دے رکھی ہے، جبکہ مقامی پیداوار پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے۔ اس پالیسی کی وجہ سے مقامی منڈی میں کپاس کی طلب کم ہوئی، اور اس کے نتیجے میں رواں سال تقریباً 50 لاکھ گانٹھیں بیرون ملک سے درآمد کی جا رہی ہیں۔

قومی کپاس بحالی کانفرنس کا انعقاد
رانا تنویر حسین نے اعلان کیا کہ حکومت ملتان میں قومی کپاس بحالی کانفرنس منعقد کرے گی، جہاں اہم اسٹیک ہولڈرز کپاس کی پیداوار اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیر تحفظ خوراک نے کپاس کے کاشتکاروں کی مدد اور پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بین الاقوامی کاٹن ایڈوائزری کمیٹی (آئی سی اے سی) جیسے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ پاکستان کی کپاس کی عالمی منڈی میں جگہ مضبوط ہو اور طویل المدتی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

بین الاقوامی تعاون اور پالیسی اصلاحات
آئی سی اے سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایرک ٹریکٹن برگ کی قیادت میں ایک وفد نے وفاقی وزیر سے ملاقات کی، جس میں کپاس کی پیداوار، تجارت اور ٹیکسٹائل کے شعبے کی ترقی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کی کپاس انڈسٹری اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اگر حکومت مقامی منڈی کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی تو کسانوں کو مزید نقصان اٹھانا پڑے گا، اور ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ امید کی جا رہی ہے کہ متوقع پالیسی اصلاحات سے کپاس کے شعبے کو درپیش مسائل کو کم کیا جا سکے گا، اور مقامی کاشتکاروں کو درپیش چیلنجز کا مناسب حل نکالا جائے گا۔

spot_imgspot_img