spot_img

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

پنجاب میں زرعی میکانائزیشن کے لیے بلا سود قرضے

لاہور (کسان نیوز): وزیر زراعت و لائیو اسٹاک پنجاب...

لہسن کی فصل کو بچائیں!

سیالکوٹ (کسان نیوز): پاکستان میں لہسن کی فصل کا...

کورین تاجروں کو زرعی شعبے میں سرمایہ کاری

لاہور: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے حبیب...

پاکستان میں کپاس کی پیداوار بحران کا شکار

پاکستان میں کپاس کی پیداوار کا بحران کئی سالوں...

اگیتی کپاس کی کاشت کے لیے ٹرپل جین ورائٹی کے انتخاب پر زور

صادق آباد: اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع صادق آباد، سعید...

پاکستان میں کپاس کی پیداوار بحران کا شکار

پاکستان میں کپاس کی پیداوار کا بحران کئی سالوں سے مسلسل جاری ہے، جس سے نہ صرف قومی معیشت بلکہ برآمدات، ٹیکسٹائل انڈسٹری اور لاکھوں کسان بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (PCGA) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، 28 فروری تک کپاس کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جو اس شعبے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

پیداوار میں کمی کے اعداد و شمار

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، ملتان کے ہیڈ ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی، ساجد محمود کے مطابق رواں سال فیکٹریوں میں کپاس کی آمد 5.524 ملین گانٹھ رہی، جو گزشتہ سال کے 8.393 ملین گانٹھوں کے مقابلے میں 34.17 فیصد کم ہے۔

  • پنجاب: کپاس کی پیداوار میں 48.16 فیصد کمی دیکھی گئی، جو 4.778 ملین گانٹھوں سے کم ہو کر 2.477 ملین گانٹھ تک محدود ہوگئی۔
  • سندھ: صوبے میں پیداوار 15.71 فیصد کم ہو کر 3.046 ملین گانٹھ رہ گئی، جو گزشتہ سال 3.614 ملین گانٹھ تھی۔
  • بلوچستان: کپاس کی پیداوار مستحکم رہی اور کوئی بڑا اتار چڑھاؤ دیکھنے میں نہیں آیا۔

ماہرین کے مطابق کپاس کی پیداوار میں کمی کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:

  1. موسمیاتی تبدیلی – غیر متوقع موسم، بارشوں کی کمی اور بڑھتی ہوئی گرمی۔
  2. کاشت کے رقبے میں کمی – کسانوں کی دیگر فصلوں کی طرف منتقلی۔
  3. پانی کی قلت – نہری پانی کی دستیابی میں کمی اور زیرِ زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح۔
  4. زرعی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں – بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات کی قیمتوں میں اضافہ۔
  5. مناسب حکومتی پالیسیوں کا فقدان – امدادی قیمتوں کا اعلان نہ ہونا اور تحقیقی سرمایہ کاری میں کمی۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث شدید متاثر ہورہی ہے۔ مقامی سطح پر خام مال کی کمی کے باعث ملک کو 5 ارب ڈالر مالیت کی کپاس درآمد کرنا پڑے گی، جو پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت پر مزید بوجھ ڈالے گی۔

رواں سال کپاس کے 92.55 فیصد اسٹاک کو ٹیکسٹائل سیکٹر نے خریدا، جبکہ برآمد کنندگان اور تاجروں نے صرف 46,700 گانٹھیں حاصل کیں، جو عالمی مارکیٹ میں پاکستانی کپاس کی کم طلب کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، فروخت نہ ہونے والے ذخائر میں 75.37 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو مقامی طلب میں کمی یا مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان میں کپاس کی پیداوار کے بحران سے نکلنے کے لیے حکومت اور پالیسی سازوں کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

تحقیقی اور ترقیاتی سرمایہ کاری میں اضافہ – بیجوں کی بہتر اقسام کی تیاری کے لیے تحقیق کو فروغ دینا۔
کسانوں کی معاونت – فصل کی امدادی قیمت کا اعلان تاکہ کسان کپاس کی کاشت میں دوبارہ دلچسپی لیں۔
پانی کے وسائل کا بہتر انتظام – آبپاشی کے نظام کو جدید بنانا اور پانی کی قلت کے حل کے لیے اقدامات کرنا۔
برآمدات میں اضافہ – پاکستانی کپاس کی عالمی مارکیٹ میں پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے مراعات دینا۔
اداروں کی اصلاحات – پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کو پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل میں ضم کرکے مربوط پالیسی تشکیل دینا۔

موجودہ حالات میں اگر فوری اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو کپاس کی پیداوار میں مزید کمی کا خدشہ ہے، جس سے نہ صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری بلکہ ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کی کپاس کی صنعت کو بحران سے نکالنے کے لیے جامع اور طویل المدتی پالیسی ناگزیر ہے۔

spot_imgspot_img