سرکاری طور پر گندم نہ خریدنے سے 130 کھا ایکڑ رقبے پر کاشت نہیں کی گئی۔ حکومتی پالیسی برفت دار رہنے سے فوڈ سیکورٹی کو خطرہ کسان اتحاد نے پالیسی کو ملک دشمنی کے مترادف قرار دیدیا
سرکاری طور پر غلہ نہ خریدنے کی سب سے پہلی مزاحمت پنجاب سے سامنے آئی ہے جو گندم کی پیداوار میں سرفہرست ہے۔ جبکہ گزشتہ برس سرکاری طور پر گندم نہ خریدے جانے پر گندم کی کاشت کے رقبے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ ایک ساک پہلے تک حکومت فوڈ سیکورٹی کے تحت ممکنہ ضرورت سے زائد غلہ خرید کر ذخیرہ کر کے مارکیٹ میں عوام کو متوازن نرخ پر فراہم کرنے کی پالیسی مرتب کرتی رہی ہے۔ لیکن گزشتہ سال گندم کی سرکاری خرید نہ کرنے کی پالیسی اپنائی گئی اور کھلی مارکیٹ میں خرید وفروخت کا تجربہ کیا گیا۔ جس کی وجہ سے کاشت کار کو حکومت کے مقرر کردہ نرخ سے نصف قیمت پر گندم فروخت کرنا پڑی۔ جبکہ حکومت کی طرف سے باور کروایا گیا کہ کھلی مارکیٹ میں گندم کی فروخت ہونے سے آنے اور روٹی کی قیمت قابو میں رہی ، جس کا فائدہ عوام کو پہنچا۔ تاہم کا شتکار طبقے کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اس کی کمر ٹوٹ گئی اور اخراجات پورے نہ ہونے سے وہ قرض تلے دب گئے ہیں۔ مزید قرضوں کے بوجھ سے بچنے کیلئے کا شکار تعظیموں نے گندم کی کاشت کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اور اب کا شیکاروں کی تنظیم پاکستان کسان اتحاد کے رہنما چودھری خالد حسین ہاتھ نے تصدیق کی ہے کہ امسال تیس لاکھ ایکڑ رقبے پر گندم کاشت نہیں کی گئی۔ اس بار گندم سرکاری طور پر نہ خریدے جانے کی اطلاعات پر پنجاب ایک بار پھر سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین کا بھی کہنا ہے کہ غلے کی سرکاری خرید نہ کیے جانے کا حکومتی فیصلہ فوڈ سیکورٹی کو مزید خطرات سے دو چار کر دے گا اور خدانخواستہ کسی بحران یا آفت کی صورت میں روٹی نہیں مل سکے گی اور کاشتکار کا زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔ جبکہ اس کا فائدہ صرف سرمایہ کار کا طبقہ اٹھائے گا۔ حکومت کو یہ بھی باور کرایا گیا کہ چین جیسا ملک اپنی فوڈ سیکورٹی کیلئے دوسرے ممالک میں زراعت کر رہا ہے۔
حکومتی رکن ذوالفقار شاہ نے اپنی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج پچیس کروڑ کی آبادی ہے۔ 2050ء میں آبادی پچاس کروڑ ہوگی۔ تب کیا کریں گے۔ اگر لوگوں کی سیکورٹی کا انتظام نہیں کریں گے پھر مسائل پیدا ہوں گے۔ پہلے ہی گندم کی کاشت کم ہوئی ہے اور بارانی علاقوں میں بارشیں بھی کم ہوئی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے بھی پیداوار میں کمی دیکھی جارہی ہے۔ ایسی صورت میں کھلی مارکیٹ میں کسان کی بقا کیے ممکن ہوگی ۔ صرف ساہوکار کو فائدہ پہنچے گا۔ غلے کی سرکاری خریداری نہ کرنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں۔ حکومت اس پر نظر ثانی کرے۔ اس کی تائید کرتے ہوئے نون لیگ ہی کے چودھری شیر علی خان کا کہنا ہے کہ بارانی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی نے فصل کو برباد کیا ہے۔ پانی کی کمیابی کے باعث ابھی سے گندم پہلی ہونا شروع ہوگئی ہے۔ جو اس کی کم پیداوار کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اس کی تصدیق کرتے ہوئے کسان اتحاد کے رہنما چودھری خالد حسین باتھ کہتے ہیں کہ پنجاب میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے کاشتکار کے پیداواری اخراجات بہت مہنگے ہو چکے ہیں۔ بجلی ہی ساٹھ روپے فی یونٹ پڑتی ہے۔ اس پر پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فی ایکڑ پیداوار اس حد تک متاثر ہوئی ہے کہ جس کھیت سے فی ایکڑ پیداوار پچاس من تک تھی۔ وہاں پندرہ سے ہیں من فی ایکڑ کم ہوگئی ہے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کاشتکار پہلے ہی اپنی مجبوریوں کی وجہ سے سرمایہ کار کے شکنجے میں پھنسا ہے۔ جب کلی طور پر ریٹ اور خرید سرمایہ کار کے ہاتھ میں چلی جائے گی تو کاشتکار مزید بر باد ہو جائے گا اور نتیجہ خدانخواستہ تباہی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ پھر کا شکار صرف اپنی ضرورت کا اناج کاشت کرے گا اور نقد آور فصلیں لگائے گا۔ جو ہر علاقے میں کاشت کرنا ممکن نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بنیادی طور پر عالمی اداروں کے تابع پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں۔ کو ملک و قوم کی دشمنی کے مترادف ہے۔ جس کی مزاحمت کیلئے ہم لوگوں سے رابطے کر رہے ہیں۔ احتجاج کیلئے رحیم یار خان ، صادق آباد یا کسی بھی سرحدی ضلع سے نکلیں گے اور گاؤں گاؤں احتجاج کریں گے۔ کسان رابطہ کمیٹی کے رہنما ناصر خان کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر عالمی ادارے صرف اشرافیہ کے مفاد میں سوچتے ہیں اور حکمران بھی اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ کھلی مارکیٹ میں حملے کی فروخت سے صرف سرمایہ کار کو فائدہ ہوگا۔ کی دھاک بیٹھ جائے گی۔ جس سے پہلے عوام متاثر ہوں گے اور پھر حکومتیں بلیک میل ہوں گی ۔
گندم کی کاشت میں مزید کمی کا امکان
