پاکستان میں چینی کی جگہ گڑ کا بڑھتا ہوا رجحان: موسمیاتی تبدیلی اور گنے کی قیمت کا مسئلہ
موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کی زراعت کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں گنے کی مٹھاس اور چینی کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ چینی کی پیداوار میں 25 فیصد کمی کے باعث شہریوں نے چینی کے بجائے گڑ کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ دکانداروں کے مطابق، گڑ کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر کیمیکل سے پاک آرگینک گڑ کی، جو قدرے مہنگا ہوتا ہے لیکن صحت کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔
گنے کی قیمت اور شوگر ملز کی حکمت عملی
رواں سیزن میں کین کمشنر کی جانب سے گنے کی قیمت مقرر نہ ہونے کے باعث شوگر ملز مالکان کسانوں سے گنا 250 سے 300 روپے فی من خرید رہے ہیں، جبکہ گزشتہ سال گنے کا ریٹ 400 روپے فی من تھا۔
کسان اتحاد کی تنقید
مرکزی چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گنے کی قیمت کا تعین نہ کرنا کسانوں کے ساتھ ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان پہلے ہی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، اور حکومت کی ناقص پالیسیوں نے ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور اقدامات
ڈی جی محکمہ زراعت، نوید عصمت کاہلوں نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے فصلوں کو بچانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ زیادہ قوت برداشت رکھنے والی بیج کی اقسام اور جدید طریقے اپنانے سے زراعت کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
شہریوں کا رجحان اور شکریہ
آرگینک اشیاء کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے شہریوں نے چینی کی جگہ گڑ اور شکر کا استعمال شروع کر دیا ہے، جس سے کسانوں کو بھی فائدہ ہو رہا ہے۔ خالد حسین باٹھ نے شہریوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گڑ استعمال کرنے کا رجحان نہ صرف صحت کے لیے بہتر ہے بلکہ کسانوں کے لیے بھی حوصلہ افزا ہے، کیونکہ ان کی فصلیں بیماریوں سے محفوظ ہیں اور گڑ ایک قدرتی اور مفید متبادل ہے۔
حل کی ضرورت
یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ حکومت کو زراعت کے شعبے کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا تاکہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے اور شہریوں کو معیاری زرعی مصنو
عات دستیاب رہیں۔