ماہرین زراعت کا شہریوں کو کچن گارڈننگ کے فروغ کی ترغیب
ماہرین زراعت نے شہریوں کو کچن گارڈننگ کو فروغ دینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت ایک صحت بخش اور فائدہ مند مشغلہ ہے جو نہ صرف انسانی صحت کے لیے اکسیر ہے بلکہ جسمانی و ذہنی سکون کا بھی باعث بنتا ہے۔ گھر میں اگائی گئی سبزیاں سپرے اور دیگر کیمیکل سے پاک ہوتی ہیں، جس سے انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سبزیوں کی کاشت کے لیے آسان طریقے
ماہرین نے کہا کہ اگر گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت کے لیے زمین دستیاب نہ ہو تو گملوں، کھلے ڈبوں، پلاسٹک یا لکڑی کی ٹرے کا استعمال کر کے سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ شہری چھوٹے پلاٹوں یا چھتوں پر ایسی سبزیاں اگائیں جو لمبے عرصے تک پیداوار دیتی رہیں۔
مناسب سبزیوں کا انتخاب
ماہرین نے تجویز دی کہ پالک، دھنیا، میتھی، گوبھی، ٹماٹر، شلجم، گاجر، اور مولی جیسی سبزیاں تین سے پانچ مرلہ کے پلاٹ میں بآسانی اگائی جا سکتی ہیں۔ یہ سبزیاں کم جگہ میں زیادہ پیداوار دیتی ہیں اور ان کے لیے نہری پانی کے علاوہ عام گھریلو پانی بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
آبپاشی کے اصول
سبزیوں کو پانی دینے کے حوالے سے ماہرین نے کہا کہ پانی دیتے وقت احتیاط کریں کہ پانی کھیلیوں سے اوپر نہ جائے، کیونکہ اس سے زمین سخت ہو سکتی ہے اور سبزیوں کی افزائش متاثر ہو سکتی ہے۔
کچن گارڈننگ کے فوائد
ماہرین کے مطابق، کچن گارڈننگ نہ صرف صحت مند خوراک فراہم کرتی ہے بلکہ یہ مہنگائی کے دور میں سبزیوں کی خریداری کے اخراجات کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ مشغلہ ماحولیاتی تحفظ میں بھی کردار ادا کرتا ہے کیونکہ یہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مددگار ہے۔
بچوں کو شمولیت کی ترغیب
ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں کو بھی کچن گارڈننگ میں شامل کریں۔ یہ سرگرمی بچوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے اور انہیں قدرت کے قریب لے جاتی ہے۔
حکومتی اقدامات کی ضرورت
ماہرین نے کہا کہ حکومت کو بھی شہریوں کو کچن گارڈننگ کی ترغیب دینے کے لیے خصوصی مہمات کا آغاز کرنا چاہیے۔ سستی بیجوں کی فراہمی، تربیتی ورکشاپس، اور رہنمائی کے مراکز قائم کرنے سے اس رجحان کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔