spot_img

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

پنجاب میں زرعی میکانائزیشن کے لیے بلا سود قرضے

لاہور (کسان نیوز): وزیر زراعت و لائیو اسٹاک پنجاب...

لہسن کی فصل کو بچائیں!

سیالکوٹ (کسان نیوز): پاکستان میں لہسن کی فصل کا...

کورین تاجروں کو زرعی شعبے میں سرمایہ کاری

لاہور: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے حبیب...

پاکستان میں کپاس کی پیداوار بحران کا شکار

پاکستان میں کپاس کی پیداوار کا بحران کئی سالوں...

اگیتی کپاس کی کاشت کے لیے ٹرپل جین ورائٹی کے انتخاب پر زور

صادق آباد: اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع صادق آباد، سعید...

دلبرداشتہ کسان نے مفت سبزی تقسیم کردی

سبزی کی کم قیمت، کسان دلبرداشتہ— حل کیا ہے؟

نارووال: سبزی منڈی میں گوبھی کی انتہائی کم قیمت لگنے پر ایک کسان نے دلبرداشتہ ہوکر 50 من گوبھی شہریوں میں مفت تقسیم کر دی۔

تفصیلات کے مطابق نارووال کے نواحی گاؤں موضع صادق آباد کے ایک کسان نے اپنی گوبھی فروخت کے لیے سبزی منڈی لائی، مگر آڑھتیوں نے زیادہ سے زیادہ 2 سے 5 روپے فی کلو قیمت لگائی۔ بہتر قیمت نہ ملنے پر کسان نے مایوسی کے عالم میں پوری گوبھی مفت بانٹ دی۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بھی کئی کسان کم قیمتوں، آڑھتیوں کے استحصال اور مہنگے پیداواری اخراجات کی وجہ سے سبزیوں کو ضائع کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک کسان نے ٹماٹروں کو نہر میں پھینک دیا تھا، جس کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔

کسانوں کے مسائل کا حل کیا ہے؟

اس موقع پر کسان رہنما حسن فرید جوئیہ نے کہا کہ:

"میں ہمیشہ ویلیو ایڈیشن کی بات کرتا ہوں کہ خدا کے لیے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو ضائع نہ کریں، بلکہ تھوڑی سی محنت کریں اور کاٹج انڈسٹری میں سرمایہ کاری کریں۔ بجائے اس کے کہ لوگ پلاٹوں اور پراپرٹی میں سرمایہ لگائیں، انہیں فوڈ پراسیسنگ یونٹس لگانے پر غور کرنا چاہیے۔ اپنی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن کریں اور عالمی منڈی میں فروخت کریں۔ بجلی کی کمی کو سولر توانائی سے پورا کریں اور چھوٹی صنعتوں کی طرف آئیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں فروزن گوبھی کی مارکیٹ 40 بلین ڈالر کی ہے۔ صرف چین نے 500 ملین ڈالرز کی فروزن گوبھی ایکسپورٹ کی، جبکہ چین کی مجموعی فروزن سبزیوں کی برآمدات 2 بلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہیں۔ دوسری طرف بھارت کی فروزن سبزیوں کی برآمدات 1 بلین ڈالرز سے تجاوز کر چکی ہیں۔

"اگر ہم چھوٹے پیمانے پر سبزیوں کو فریز کرنے کے یونٹ لگا لیں تو یہ انڈسٹری ٹیکسٹائل سے بڑی صنعت بن سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم اب بھی حکومت کے سہارے بیٹھے رہے تو یاد رکھیں کہ نہ آپ اور نہ ہی کسان حکومت کی ترجیح میں شامل ہیں۔ ہمیں خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا، بصورتِ دیگر ہمارا کسان بھوک سے بلکتا رہے گا اور ہمارا نوجوان بے روزگاری کے عفریت تلے دبتا چلا جائے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں ایک کروڑ 30 لاکھ افراد خطِ غربت سے نیچے جا چکے ہیں اور 2025 میں یہ تعداد دگنی ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومت اور نوکر شاہی عوام کے مسائل سے لاتعلق ہو چکی ہے، اس لیے ہر فرد کو اپنی بقا کی راہیں خود تلاش کرنا ہوں گی۔

spot_imgspot_img