spot_img

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

پنجاب میں زرعی میکانائزیشن کے لیے بلا سود قرضے

لاہور (کسان نیوز): وزیر زراعت و لائیو اسٹاک پنجاب...

لہسن کی فصل کو بچائیں!

سیالکوٹ (کسان نیوز): پاکستان میں لہسن کی فصل کا...

کورین تاجروں کو زرعی شعبے میں سرمایہ کاری

لاہور: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے حبیب...

پاکستان میں کپاس کی پیداوار بحران کا شکار

پاکستان میں کپاس کی پیداوار کا بحران کئی سالوں...

اگیتی کپاس کی کاشت کے لیے ٹرپل جین ورائٹی کے انتخاب پر زور

صادق آباد: اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع صادق آباد، سعید...

کسانوں پر زرعی آمدن ٹیکس کا قانون منظور

سندھ اسمبلی میں زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کا قانون منظور

کراچی: سندھ اسمبلی نے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس لاگو کرنے کے قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت زراعت سے حاصل ہونے والی آمدن پر 2 سے 10 فیصد تک انکم ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ یہ قانون 15 جنوری 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔

قانون کا پس منظر

یہ قانون بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت پاکستان کے وعدوں کے مطابق منظور کیا گیا ہے۔ سندھ زرعی انکم ٹیکس 2025 بل کا مقصد ٹیکس وصولی میں اضافہ کرنا اور مالی خسارے کو کم کرنا ہے۔

زرعی آمدن پر ٹیکس کی شرح

زرعی پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدن کے مطابق ٹیکس کی شرح درج ذیل ہوگی:

زرعی انکم ٹیکس سے متعلق اہم نکات

  • 6 لاکھ روپے سالانہ آمدن تک کسانوں کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
  • مویشیوں (لائیو اسٹاک) سے حاصل ہونے والی آمدنی اس قانون کے تحت ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی۔
  • کارپوریٹ فارمنگ کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا ہے، جہاں چھوٹی کمپنیوں پر 20% اور بڑی کمپنیوں پر 28% زرعی ٹیکس لاگو ہوگا۔
  • قدرتی آفات کی صورت میں زرعی انکم ٹیکس میں رعایت دی جائے گی۔

وفاقی حکومت پر سندھ حکومت کے اعتراضات

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ زرعی انکم ٹیکس پہلے سے نافذ تھا، مگر وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں صوبوں کو شامل نہیں کیا، جس پر سندھ حکومت کو تحفظات ہیں۔

انہوں نے مزید کہا:
"وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کو غلط تاثر دیا کہ زراعت پر کوئی ٹیکس نہیں، حالانکہ زرعی انکم ٹیکس پہلے ہی لاگو ہے۔”

سندھ کے وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے بھی اس قانون پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا:
"سندھ کا زرعی شعبہ پہلے ہی بحران کا شکار ہے، ہمیں کسانوں کو سپورٹ دینا چاہیے، نہ کہ ان پر مزید مالی بوجھ ڈالنا چاہیے۔ زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس پر ٹیکس لگانے کی بجائے سبسڈی دی جانی چاہیے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کپاس اور چاول کی سپورٹ پرائس دینے میں بھی ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے سندھ کے کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

سندھ ریونیو بورڈ کی ذمہ داری

اس نئے قانون کے تحت سندھ ریونیو بورڈ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی اور نفاذ کا ذمہ دار ہوگا تاکہ اس عمل کو شفاف اور موثر بنایا جا سکے۔

دیگر صوبوں کی صورتحال

سندھ کے وزیر قانون ضیا لنجار نے اسمبلی میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ:
"پنجاب اور خیبرپختونخوا پہلے ہی زرعی انکم ٹیکس لاگو کر چکے ہیں، جبکہ بلوچستان میں بھی جلد اس قانون کی منظوری متوقع ہے۔”

کیا زرعی انکم ٹیکس کسانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا؟

یہ نیا قانون ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کا زرعی شعبہ پہلے ہی پانی کی قلت، کھادوں کی بڑھتی قیمتوں اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسان مزید مالی دباؤ میں آ سکتے ہیں۔

آپ کی رائے کیا ہے؟

کیا زرعی انکم ٹیکس کسانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا یا اس سے معیشت کو استحکام ملے گا؟ اپنی رائے کسان نیوز کے کمنٹس سیکشن میں دیں!

spot_imgspot_img