spot_img

تازہ ترین

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

پنجاب میں زرعی میکانائزیشن کے لیے بلا سود قرضے

لاہور (کسان نیوز): وزیر زراعت و لائیو اسٹاک پنجاب...

لہسن کی فصل کو بچائیں!

سیالکوٹ (کسان نیوز): پاکستان میں لہسن کی فصل کا...

کورین تاجروں کو زرعی شعبے میں سرمایہ کاری

لاہور: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے حبیب...

پاکستان میں کپاس کی پیداوار بحران کا شکار

پاکستان میں کپاس کی پیداوار کا بحران کئی سالوں...

اگیتی کپاس کی کاشت کے لیے ٹرپل جین ورائٹی کے انتخاب پر زور

صادق آباد: اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع صادق آباد، سعید...

بلوچستان بڑا زرعی ٹیکس عائد، بل منظور

بلوچستان میں زرعی آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے کا ترمیمی مسودہ قانون بلوچستان اسمبلی سے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس بل کے تحت زیادہ آمدنی والے زمینداروں پر سپر ٹیکس بھی لاگو ہوگا، جبکہ سالانہ زرعی آمدنی 6 لاکھ روپے تک ہونے پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا۔ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک آمدنی پر 15 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ کی زیر صدارت ہوا، جس میں صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کرد نے "بلوچستان ٹیکس آن لینڈ اینڈ ایگریکلچرل انکم کا ترمیمی مسودہ قانون 2025” پیش کیا، جسے اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔

بلوچستان میں زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ، دیگر صوبوں کے بعد عملدرآمد
بلوچستان سے قبل پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں بھی زرعی آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے کے قوانین منظور کیے جا چکے ہیں۔ سندھ اسمبلی نے آج ہی زرعی انکم ٹیکس بل 2025 اتفاق رائے سے منظور کیا تھا، اس سے قبل 27 جنوری 2025 کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں زرعی انکم ٹیکس بل اور 24 نومبر 2024 کو پنجاب اسمبلی میں زرعی انکم ٹیکس پنجاب بل 2024 کثرتِ رائے سے منظور کیا گیا تھا۔

اپوزیشن کا احتجاج، بل پر تنقید
اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن مولانا ہدایت الرحمٰن نے بل پر شدید احتجاج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے کسانوں پر اضافی ٹیکس عائد کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان میں اپوزیشن اراکین کی تعداد کم ہے، اس لیے اس مسودہ قانون کو مؤخر کیا جائے، تاہم ان کے احتجاج کے باوجود بل کو اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔

دہشت گردی کے واقعات پر مذمتی قرارداد منظور
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں ضلع قلات میں ایف سی اور ڈیرہ اسمٰعیل خان میں پشین لیویز اہلکاروں کی شہادت پر مشترکہ مذمتی قرارداد بھی منظور کی گئی۔ صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے قرارداد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ضلع قلات میں دہشت گردوں کے حملے میں 18 ایف سی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ ڈیرہ اسمٰعیل خان کے علاقے درابن میں پشین لیویز کے 3 اہلکاروں سمیت 4 افراد شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اور اب تک 450 سے زائد سویلین افراد شہید ہو چکے ہیں۔ قرارداد پر حکومتی اراکین نے دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی اور دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

نیشنل پارٹی کا ایوان سے واک آؤٹ
اجلاس کے دوران سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی قیادت میں نیشنل پارٹی کے اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ تاہم وزیر اعلیٰ بلوچستان کی درخواست پر حکومتی وفد نے انہیں منا کر دوبارہ اجلاس میں شرکت کے لیے واپس لے آیا۔

بلوچستان میں زرعی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ اور دہشت گردی کے واقعات پر مذمتی قرارداد کی منظوری ملک میں جاری معاشی و سیکیورٹی چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔ اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود حکومت نے ٹیکس اصلاحات کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ امن و امان کی صورتحال پر سخت اقدامات کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔

spot_imgspot_img