پاکستان کے زرعی شعبے کو درپیش سنگین بحران: موسمیاتی تبدیلی، پیداواری لاگت میں اضافہ اور اجناس کی کم قیمتیں
موسمیاتی تبدیلیوں، زرعی اجناس کی کم قیمتوں اور ان کی بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت نے 2025 میں پاکستان کے زرعی شعبے کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو ملک کو آئندہ سال غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کاٹن اور گندم کی صورتحال
کسان اتحاد کے سربراہ اور مرکزی چیئرمین خالد حسین باٹھ نے بتایا کہ 2025 کا سال زرعی شعبے کے لیے انتہائی مشکل رہا۔ کاٹن کی پیداوار میں 65 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، جبکہ آم کی 60 فیصد فصل موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ضائع ہو گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ سال گندم کی کاشت میں 10 سے 15 فیصد کمی کا امکان ہے کیونکہ کسان دیگر فصلوں کی کاشت کو ترجیح دیں گے۔
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ چھوٹے کاشتکار مہنگائی اور کھادوں کی قیمتوں کے سبب معیاری بیج اور زرعی ادویات خریدنے سے قاصر ہیں، اور سیزن کے دوران بلیک مارکیٹ میں زرعی مداخلات کی قیمتیں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں گندم کی پیداوار میں مزید کمی ہوگی، اور ملک کو مہنگی درآمدی گندم پر انحصار کرنا پڑے گا۔
اجناس کی قیمتوں میں کمی
فورٹ عباس ضلع بہاول نگر کے کسان غلام فرید جوئیہ نے بتایا کہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 3900 روپے فی من مقرر کی تھی، لیکن زیادہ گندم درآمد کرنے کی وجہ سے حکومت نے مقامی کسانوں سے گندم خریدنے سے انکار کر دیا۔ کسانوں کو اپنی گندم 2,300 روپے فی من کے حساب سے بیچنی پڑی، جو ان کی پیداواری لاگت سے بھی کم تھی۔ چاول کی صورتحال اس سے بھی خراب ہے، جہاں ہائبرڈ چاول کی قیمت 4,800 روپے فی من سے گر کر 1,800 روپے فی من تک آ گئی ہے
پیداواری لاگت میں اضافہ
غلام فرید جوئیہ کے مطابق کھاد، بیج اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈی اے پی کھاد کی قیمت بلیک مارکیٹ میں 13,500 روپے فی بوری تک پہنچ چکی ہے، جو 3 سے 4 سال پہلے 4,000 روپے تھی۔ بجلی کے نرخ 60 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ بھارتی کسانوں کو مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات
زرعی ماہر کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں نے پاکستان کے زرعی شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ غیر متوقع بارشوں اور بدلتے موسم کی وجہ سے فصلوں کی بوائی اور کٹائی کی تاریخیں متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسانوں کو زیادہ قوت برداشت کے حامل بیجوں اور متفرق فصلوں کی کاشت کے ماڈل کو اپنانا ہوگا۔
حل کی ضرورت
ماہرین کا کہنا ہے کہ پالیسی ساز اداروں اور یونیورسٹیوں کو مل کر تحقیق کرنی چاہیے تاکہ کسانوں کو جدید بیج، ٹیکنالوجی، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق قابل عمل حل فراہم کیے جا سکیں۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی اقدامات ناگزیر ہیں۔