مٹی میں کاربن ذخیرہ: جدید زرعی طریقے زرعی پائیداری کے لیے اہم قرار
ایک حالیہ تحقیقی جائزے نے مٹی میں نامیاتی کاربن (SOC) کے نقصان کو دنیا بھر میں زرعی پیداوار اور پائیداری کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق جدید زرعی طریقے، جن میں کور کراپس، تحفظاتی ہل چلانا، ایگروفاریسٹری، فصلوں کی گردش، اور ملچنگ شامل ہیں، مٹی میں نامیاتی کاربن کے ذخیرے کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیق کی جھلکیاں
تحقیق کے مطابق کور کراپس، یعنی وہ فصلیں جو مٹی کو ڈھانپنے کے لیے لگائی جاتی ہیں، مٹی کی زرخیزی بڑھانے میں معاون ہیں۔ ان فصلوں کی جڑوں سے اخراج شدہ مادے مائیکروبیل سرگرمی کو بڑھاتے ہیں، جس سے نامیاتی مرکبات کاربن میں تبدیل ہوتے ہیں۔ اس سے مٹی کا معیار بہتر ہوتا ہے اور غذائی اجزاء زیادہ دستیاب ہوتے ہیں۔
تحفظاتی ہل چلانے کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ طریقہ مٹی کی ساخت کو بہتر بناتا ہے اور کاربن کو ذخیرہ کرنے میں مدد دیتا ہے، بغیر مٹی کی سطح کو زیادہ متاثر کیے۔
ایگروفاریسٹری، یعنی درختوں اور فصلوں کو ایک ساتھ اگانے کا طریقہ، مٹی میں غذائی اجزاء کے تیز گردش کو ممکن بناتا ہے اور نامیاتی کاربن کے ذخیرے کو بڑھاتا ہے۔ اس میں درختوں اور فصلوں کے درمیان ہم آہنگی کا خاص کردار ہوتا ہے، جو مٹی کی زرخیزی کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
فصلوں کی گردش اور انٹریکروپنگ کا کردار
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ فصلوں کی گردش اور انٹریکروپنگ، یعنی ایک ہی زمین پر مختلف فصلوں کو ایک ساتھ اگانے کا عمل، مٹی کی نامیاتی باقیات کی ساخت میں مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ یہ طریقے کاربن ذخیرے کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ زمین کی پیداواریت کو بھی بہتر بناتے ہیں۔
روایتی ہل چلانے کے نقصانات
رپورٹ میں روایتی ہل چلانے کے نقصانات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اس طریقے سے مٹی کا نامیاتی کاربن ختم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، جبکہ صفر ہل چلانے جیسے جدید طریقے مٹی کو محفوظ رکھنے اور کاربن کو ذخیرہ کرنے کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔
کسانوں کے لیے اقتصادی فوائد
تحقیق میں زور دیا گیا کہ مٹی میں کاربن کے ذخیرے کو بڑھانے والے طریقے نہ صرف زرعی پائیداری کو یقینی بناتے ہیں بلکہ کسانوں کی معیشت کو بھی بہتر بناتے ہیں۔ نامیاتی اضافوں اور جدید طریقوں کی مدد سے فصل کی زیادہ پیداوار ممکن ہے، جس سے کسانوں کو زیادہ منافع حاصل ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اہم اقدامات
ماہرین نے اس تحقیق کے نتائج کی روشنی میں زور دیا ہے کہ حکومت اور زرعی تنظیمیں کسانوں کو جدید زرعی طریقوں کو اپنانے کے لیے تربیت اور وسائل فراہم کریں۔ کاربن کے ذخیرے کو بڑھانے والے ان طریقوں سے نہ صرف زمین کی زرخیزی بحال ہوگی بلکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔