مرچ کی فصل کو بیماریوں اور کیڑوں سے بچانے کے لیے ہدایات
کسانوں کو مرچ کی فصل کو بیماریوں اور کیڑوں سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مرچ کی فصل پر وائرسی امراض، پتہ مروڑ وائرس، سفید مکھی، گوڑھ اور تیلے کے حملے کی وجہ سے پیداوار میں نمایاں کمی ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں دیکھنے میں آئی ہے۔
کسانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہ کریں، کیونکہ ان بیماریوں اور کیڑوں کے بروقت تدارک سے نہ صرف پیداوار کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ مرچ کی فصل کی مجموعی کارکردگی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
کسانوں کے لیے اہم ہدایات
1. صحت مند بیج کا انتخاب:
مرچ کی بیماریوں کے تدارک کے لیے صحتمند اور جراثیم سے پاک بیج کا استعمال بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے بیج بیماریوں کے خلاف زیادہ قوت مدافعت رکھتے ہیں اور بہتر پیداوار دیتے ہیں۔
2. فصلوں کی گردش:
کسانوں کو ہر دو سے تین سال بعد غیر میزبان فصلوں کے ساتھ مرچ کی فصل کو بدلنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ عمل بیماریوں اور کیڑوں کی افزائش کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
3. جڑی بوٹیوں کی تلفی:
فصلوں کے قریب اگنے والی جڑی بوٹیاں بیماریوں اور کیڑوں کے لیے میزبان بن سکتی ہیں، اس لیے ان کی تلفی وقتاً فوقتاً کی جائے۔
4. آبپاشی کا بہتر انتظام:
آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے سے نہ صرف فصل کی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ فصل کو کیڑوں کے حملے سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔ پانی کی زیادہ یا کم مقدار بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے پانی کے استعمال میں احتیاط برتی جائے۔
5. متاثرہ پودوں کی تلفی:
متاثرہ پودوں اور ان کی باقیات کو فوری طور پر تلف کرنا ضروری ہے تاکہ بیماریوں کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔ ترجمان نے کہا کہ فصل کی کٹائی کے بعد متاثرہ حصے کو کھیت سے باہر لے جا کر جلایا یا مناسب طریقے سے ضائع کیا جائے۔
کیڑوں اور بیماریوں کا تدارک
1. پتہ مروڑ وائرس:
یہ وائرس فصل کے پتوں کو نقصان پہنچاتا ہے، جس کی وجہ سے پودے کمزور ہو جاتے ہیں اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ ایسے بیج استعمال کیے جائیں جو اس وائرس کے خلاف مدافعت رکھتے ہوں۔
2. سفید مکھی اور گوڑھ:
سفید مکھی اور گوڑھ فصل کے لیے خطرناک ہیں، کیونکہ یہ فصل کے پتوں سے غذائی اجزاء چوس کر اسے نقصان پہنچاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان کیڑوں سے بچنے کے لیے مناسب زہریں اسپرے کی جائیں۔
3. پھل کو زخمی ہونے سے بچانا:
کسانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فصل کی کٹائی کے دوران پھل کو زخمی ہونے سے بچائیں، کیونکہ زخمی پھل بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے۔
4. سفوفی پھپھوندی:
سفوفی پھپھوندی مرچ کی فصل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ اس بیماری کے ابتدائی مراحل میں ہی زہریں اسپرے کی جائیں تاکہ فصل کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
کسانوں کے لیے ماہرین کی رہنمائی
ماہرین نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ فصل کی دیکھ بھال کے لیے محکمہ زراعت کے ماہرین سے رہنمائی حاصل کریں۔ ماہرین کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے کسان اپنی فصلوں کو نقصان سے بچانے کے لیے جدید اور مؤثر طریقے اپنانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
کسانوں کو فصل کی بیماریوں، کیڑوں، اور ان کے تدارک کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کے لیے موجود ہیں۔ کسان اپنی زمین کی خاص ضروریات کے مطابق مشورہ حاصل کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا مشورہ: قوت مدافعت والی اقسام کا انتخاب
ماہرین نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسی اقسام کا انتخاب کریں جو بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہوں اور جلدی تیار ہو جاتی ہوں۔ ایسی اقسام پیداوار میں کمی کے خطرے کو کم کرتی ہیں اور بہتر مالی فوائد فراہم کرتی ہیں۔
مرچ کی پیداوار میں کمی: ایک تشویشناک مسئلہ
پاکستان کے مختلف علاقوں میں مرچ کی پیداوار میں کمی ایک تشویشناک مسئلہ بن چکا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ کیڑوں اور بیماریوں کے حملے کی وجہ سے نہ صرف ان کی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ مالی نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔
ایک کسان محمد علی کا کہنا تھا، "ہمیں جدید ٹیکنالوجی اور ماہرین کی رہنمائی کی ضرورت ہے تاکہ اپنی فصل کو بیماریوں اور کیڑوں سے بچا سکیں۔ اگر حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے تو مرچ کی پیداوار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔”
حکومت سے مطالبہ
کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زرعی میدان میں ریسرچ اور ترقی پر زیادہ توجہ دے اور کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرے۔