کسانوں کے مسائل پر مرکزی چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ کی حکومت پر شدید تنقید
مرکزی چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کسان آج شدید مشکلات کا شکار ہے، اور حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں کو نہ تو ان کی محنت کا صلہ مل رہا ہے اور نہ ہی ان کے مسائل حل ہو رہے ہیں۔
نہری نظام میں کرپشن اور ناقص انتظامات
انہوں نے نہری نظام میں کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نہری نظام بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ نہروں کی بھل صفائی گزشتہ کئی سالوں سے نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے نہروں میں مٹی بھر چکی ہے اور کسانوں کو پانی فراہم نہیں ہو رہا۔ محکمہ ایریگیشن اور زراعت میں کرپشن عام ہے۔ بڑے زمینداروں اور مافیا نے نہروں کے آغاز میں بڑے موگے لگا کر اپنی فصلوں کو پانی مہیا کیا، لیکن چھوٹے زمیندار اور ٹیل کے علاقے کے کسان پانی سے محروم رہ گئے۔
گندم اور گنے کے ریٹس پر تشویش
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ حکومت نے گندم اور گنے کے ریٹس پر کسانوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ گندم کا مناسب ریٹ 4500 سے 5000 روپے فی من ہونا چاہیے، لیکن حکومت نے ہمیشہ کسانوں کو ان کا حق دینے سے انکار کیا ہے۔ پچھلے سال بھی گندم خریدنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن آخر میں یہ کہہ کر ٹال دیا گیا کہ نگران حکومت نے وافر مقدار میں گندم درآمد کر لی ہے۔
اسی طرح گنے کا ریٹ سرکاری طور پر 400 روپے فی من مقرر کیا گیا تھا، لیکن کسانوں کو صرف 250 سے 350 روپے فی من کی ادائیگی کی گئی، اور ادائیگیوں میں بھی تاخیر کی گئی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گنے کا ریٹ فوری طور پر 400 سے 450 روپے مقرر کیا جائے اور کسانوں کو ادائیگیاں یقینی بنائی جائیں۔
دیگر فصلوں کے مسائل اور انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ پاکستانی کسانوں کی چاول، مکئی، آلو، پیاز، سیب، کینو، امرود اور دیگر فصلیں اعلیٰ معیار کی ہیں لیکن حکومت ان فصلوں کو انٹرنیشنل مارکیٹ تک پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت زرعی پیداوار کو عالمی منڈی تک پہنچانے کے لیے اقدامات کرے تو نہ صرف کسانوں کو فائدہ ہوگا بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔
کسان اتحاد کا متفقہ لائحہ عمل
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے گندم کا مناسب ریٹ مقرر نہ کیا اور دیگر فصلوں کے مسائل حل نہ کیے تو کسان اتحاد تمام سیاسی، مذہبی اور کسان تنظیموں کے ساتھ مل کر آل پارٹیز کانفرنس بلائے گا۔ اس کانفرنس میں احتجاج کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا اور ملک بھر میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔
حکومت کے لیے پیغام
خالد حسین باٹھ نے کہا کہ کسان پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، اور ان کے مسائل حل کیے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مسائل کا فوری حل نکالا جائے، نہری نظام کو بہتر بنایا جائے، کرپشن کا خاتمہ کیا جائے، اور کسانوں کو ان کے فصلوں کا جائز معاوضہ دیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے کسانوں کے مسائل حل نہ کیے تو پورے پاکستان میں احتجاج کی لہر شروع ہوگی، اور کسان اپنے حق کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔